غزوہ حنین

 تحریر: سیدہ حفظہ احمد (حیدرآباد سندھ)
الفاظ: 551
8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ روانہ ہونے والے تھے کہ آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف مسلمانوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ طاقتور جنگجو، مگر متکبر قبائل تھے۔ یہ اپنی طاقت پر گھمنڈ میں اول نمبر پر آتے تھے۔ ان کا کمانڈر مالک بن عوف تھا۔
نبی اکرم ﷺ کو اطلاع ملتے ہی آپ ﷺ نے تحقیق کے لیے ابو حدرد اسلمیؓ کو بھیجا اور فرمایا: "ان کے درمیان قیام کرکے حالات کا پتہ لگائیں اور فورا خبر کریں۔" انہوں نے تحقیق کی تو خبر سچی تھی نکلی یہ قبائل مسلمانوں کو صفحہ ہستی مٹانا چاہتے ہیں اور بادشاہی کا تمغہ اپنے سر رکھنا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے 12000 کا لشکر جمع کیا۔ جس میں سے دس ہزار فتح میں شامل انصار و مہاجرین تھے اور دو ہزار سے کچھ زیادہ نو مسلم تھے جو فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے۔
نبی اکرم ﷺ حنین تک پہنچے تو یہ قبائل گھات لگائے گھاٹیوں میں چھپے ہوئے تھے، انہوں نے اچانک تیروں کی بارش کرکے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ اس سے ایک بار احد کی طرح مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹنا شروع ہوگئے اور مسلمان یک دم بکھر گئے۔
نبی اکرم ﷺ اپنے خچر دلدل پر سوار تھے۔
آپ ﷺ فرما رہے تھے: "لوگو! میری طرف آؤ میں عبد اللہ کا بیٹا محمد ہوں۔" آپ کی شجاعت کا ثبوت یہ تھا کہ دشمن کی طرف پیش قدمی کرتے جارہے تھے، اور صدا لگاتے جا رہے تھے۔
" میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں
میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔"
حضرت عباسؓ نے بھی رکاب تھام لی تھی۔
حضرت عباسؓ کی آواز سب سے بلند تھی، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ صحابہؓ کو پکاریں۔ آپؓ نے حکم پر عمل کرتے ہوئے بلند آواز سے پکارنا شروع کیا۔ بیعت رضوان والو! وہ جس طرح بکھرے تھے اسی طرح واپس پلٹ آئے۔ یہاں تک کہ سو آدمی آپ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے، پھر آپ ﷺ نے دشمن کی طرف پیش قدمی کی۔
پھر انصار کی پکار شروع ہوئی، پھر سب دوڑے چلے آئے اور فریقین سے جنگ ہوئی، اور مسلمانوں کے قدم اللہ کی رحمت اور ایمان کے نور سے دوبارہ جمنے لگے۔ یہاں تک کہ جنگ کا تختہ پلٹ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک مٹھی مٹی بھری اور دشمن کی طرف پھینکی اور فرمایا: "شاھت الوجوہ یعنی چہرے بگڑ جائیں"۔ یہ مٹھی بھر مٹی دشمن کے لشکر میں شامل ہر ایک کی آنکھوں میں بھرنے لگی اور ان کا زوال شروع ہوگیا۔
ثقیف کے 70 آدمی قتل ہوئے اور ان کا ڈدھیروں مال مسلمانوں کے پاس مال غنمیت کی حیثیت سے آیا۔ جس میں  6 ہزار قیدی، 20 ہزار اونٹ، 40 ہزار سے زیادہ بکریاں، 4 ہزار اوقیہ چاندی وغیرہ۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو جعرانہ کے مقام پر جمع کردیا۔
قیدیوں میں آپ ﷺ کی رضاعی بہن شیماء بنت حارث سعدیہؓ بھی تھیں۔ آپ ﷺ کریم ہیں۔ انہوں نے ان کا عزت و احترام کیا اور اپنی چادر بچھا کر بٹھایا۔ پھر انہیں اپنے قبیلے واپس بھیج دیا۔
حنین کی وادی سے دشمن بھاگ کر طائف چلے گئے، باقی ماندہ نے اوطاس میں پناہ لی۔
قبیلہ ہوازن کے لوگ چھ عرصے بعد آپ  ﷺ کی خدمت میں پیش ہو کر مسلمان ہوئے، دائرہ اسلام میں داخل ہوکر کلمہ حق بلند کرنے لگے۔
17مارچ 2026
27 رمضان المبارک 1447
حوالہ جات:
1- الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری
2- اسلامی تاریخ - امتیاز پراچہ
3- سیرت خاتم الانبیاء از مولانا مفتی محمد شفیع رح

Post a Comment

Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks

جدید تر اس سے پرانی