فتح مکہ; جاؤ آج تم سب آزاد ہو

 تحریر: سیدہ حفظہ احمد حیدرآباد سندھ 
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو خاموشی سے سامان باندھنے کا حکم دیا۔ اس دوران حضرت ابو بکرؓ آئے تو پوچھا:  بیٹی! کہاں کی تیاری ہے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: واللہ! مجھے نہیں معلوم۔ اس واقعے کے تیسرے روز آپ ﷺ نے حکم دیا اور فرمایا: مکہ چلنا ہے اور اللہ سے دعا فرمائی کہ قریش تک اس کی خبر نہ پہنچے۔
لیکن ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہؓ نے قریش کو اطلاع اس غرض سے بھجوادی کہ وہ قریش پر احسان کردیں اور قریش ان کے گھر والوں کی حفاظت کریں۔
لیکن اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع پہنچادی تو آپ ﷺ نے اس عورت کے پیچھے دستہ روانہ کیا، جو اپنی چوٹی میں رقعہ چھپائے لے جا رہی تھی۔ بروقت صحابہؓ نے اس عورت کو پالیا اور رقعہ اس سے نکلوالیا۔ نبی اکرم ﷺ نے حاطبؓ کو طلب کیا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے وجہ بیان کی۔ حضرت عمر نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی کہ اس کی گردن اڑادوں۔ اللہ کے نبیﷺ نے روک دیا کہ حاطبؓ بدر میں شریک تھے، جن کی بخشش کا پروانہ اللہ نے خود جاری فرمایا ہے۔
صلح حدیبیہ کے وقت امن و امان کی جو صورت قائم ہوئی تھی جسے دس سال تک قائم رہنا تھا۔ قریش کی بے صبری سے وہ بمشکل دو سال قائم رہی اور قریش نے معاہدہ توڑ کر بنو خزاعہ پر حملہ کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس ہزار صحابہؓ کی معیت میں مکہ کی وادی کے قریب پہنچ کر آگ روشن کی جاتی ہے۔ اسلامی لشکر قریش کے سروں پر کھڑا ہوتا ہے۔ اے قریش کے لوگو! تم کیا سمجھتے ہو؟ آج تمھارے ساتھ میں کیسا سلوک ہونے والا؟ بڑے بڑے مجرمین سمجھنے لگے، آج تو آپ ﷺ فاتح بن کر آئے ہیں، آج تو ہماری خیر نہیں ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ طواف کررہے ہیں، کوئی کچھ نہیں سکتا۔
انصار کا جھنڈا لیے سعد بن عبادہ کھڑے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب زبیر بن عوامؓ علم لیے کھڑے ہیں۔ ابو عبیدہ پیادوں کے سربراہ ہیں۔ ابو سفیانؓ مشرف بااسلام ہوچکے ہیں۔ آج قریش کے اس عظیم شخص کے دل کو نور ایمانی سے منور کردیا گیا ہے۔
آج بھی رسول اللہ ﷺ توحید کی دعوت دینے آئے ہیں۔
تو سن لو اے قریش، جاؤ! آج تم سب آزاد ہو۔ جس نے ابو سفیانؓ کے گھر میں پناہ لی، وہ امن میں ہے، جو مسجد الحرام میں چلا جائے وہ امان پائے گا۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔
360 بت بیت اللہ کی چھت سے لڑکھڑاتے ہوئے گرتے ہیں اور زمین بوس ہوجاتے ہیں کہ آج سے صرف خدائے وحدہ کی پرستش لازم ہے۔
آج بھی رسول اللہ ﷺ نعرہ حق بلند کرنے آئے ہیں۔
بلال کعبے کی چھت پر اذان دے رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم کے قریب نماز ادا کرتے ہیں۔
عمر بن الخطاب پہرے پر مامور ہیں۔ آج تو اللہ کی طرف سے قتال کا حکم دیا گیا ہے، آج تو گردنیں اڑانے کا دن ہے۔
خالد بن ولید کے راستے میں جو آتا مشرک آتا ہے وہ اس پر رحم نہیں کرتے اور اپنے رفقاء کے ساتھ کوہ صفا پر جا پہنچتے پیں۔ 
کیوں کہ آج حق کا دن ہے، باطل تو ہوتا ہے مٹنے کے لیے ہے۔
آج بھی رسول اللہ ﷺ عدل و انصاف کرنے آئے ہیں۔
کعبے کی کنجی حضرت علیؓ لے کر کھڑے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ عثمان بن طلحہ کو بلاتے ہیں، فرماتے ہیں "یہ لو اپنی کنجی۔ آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ یہ ہمیشہ تمھارے پاس رہے گی، اللہ نے تم لوگوں جو اس کا امین بنایا ہے، اسے وہ ہی چھینے گا جو ظالم ہوگا۔"
آج بھی رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کی طرح امین بن کر آئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے تو اپنے آبائی گھر پر پندرہ دن گزار دیے ہیں۔ انصار غم سے نڈھال چہ مگوئیوں میں مصروف ہیں۔ اب وہ ہمارے ساتھ نہیں چلیں گے، یہیں مقیم رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: "کیا سوچتے ہو اخوان المسلمین، اب تو ہماری موت و حیات تمھارے ساتھ ہی ہے۔"
آج بھی رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین بن کر تشریف لائے ہیں۔ عتاب بن اسیدؓ کو مکہ کا امیر بناتے ہیں خود مدینہ کی جانب دین اسلام کا پرچم بلند کرتے ہوئے مدینہ لوٹ جاتے ہیں۔
یہ ہے فتح مکہ، وہ عظیم فتح جس کا پیش خیمہ صلح حدیبیہ تھی۔ لوگ کھل کر اسلام کی بات کرتے تھے۔ جس کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ صلح حدیبیہ تک بھی مسلمانوں کی تعداد 3000 سے زیادہ نہ تھی مگر آج فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ 10000 صحابہ کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ اس عظیم فتح کے حق کا پرچار ہونے لگا باطل سرنگوں ہوگیا۔
17 مارچ 2026
27 رمضان 1447
حوالہ جات:
1- الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری
2- اسلامی تاریخ - امتیاز پراچہ
3- سیرت خاتم الانبیاء از مولانا مفتی محمد شفیع رح

Post a Comment

Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks

جدید تر اس سے پرانی