تحریر: سیدہ حفظہ احمد (حیدرآباد سندھ)
رومیوں کے خلاف جنگ کا اعلان سنتے ہی مسلمان اپنا مال وزر پیش کرنے میں سبقت لے جارہے تھے۔ سب اپنا مال و جان دین کی خاطر پیش کرنے کے لیے ہمیشہ کی طرح تیار تھے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ بہت مال دار تھے انہوں نے اپنا آدھا مال پیش کیا: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عثمان آج کے بعد جو چاہیں کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔" اس مال کی تعداد 900 اونٹ اور 100 گھوڑوں تک جا پہنچی تھی۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ دو سو اوقیہ چاندی لائے، حضرت عباسؓ حضرت عاصم بن عدیؓ بھی پیش پیش تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنا آدھا مال خیرات کیا۔ عورتیں بھی اپنا زیور پیش کررہی تھیں۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ سے دریافت کیا گیا کہ گھر والوں کے لیے کچھ چھوڑا ہے تو آپؓ نے فرمایا: "اللہ اور اس کا رسول ﷺ کافی ہیں۔"
اس سب کے باوجود بھی اٹھارہ آدمی ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ سواری کے ساتھ توشے بھی کم تھے۔ کئی بار پتے کھا کر گزارا کرنا پڑا۔ فاقوں اور درختوں کے پتے کھانے سے حالت بری ہونے لگتی تو اونٹ ذبح کرنے پڑتے۔ اس لیے اس کا نام "جیش العسرہ یعنی تنگی کا لشکر" بھی پڑ گیا۔ پانی کی قلت کی وجہ سے اللہ سے دعا مانگی گئی تو اللہ نے بارش برسائی لوگ سیراب ہوگئے۔
حضرت سباع بن عرفطہؓ کو مدینے کا گورنر مقرر کرکے حضرت علیؓ کو مدینہ میں گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ مگر حضرت علیؓ منافقین کی طعن و تشنی کے سبب لشکر سے جا ملے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریمؓ کو آپ ﷺ نے ہارون علیہ السلام سے نسبت دے کر ان کو واپس روانہ کردیا اور فرمایا کہ "میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"
9 ہجری میں نبی اکرم ﷺ اپنے تیس ہزار بڑے لشکر کو لے کر تبوک کے مقام پر پہنچے اور بیس دن قیام فرمایا۔ البتہ اس سے قبل اتنا بڑا لشکر مسلمانوں کا کبھی نہ تھا۔ تبوک کے چشمے تک پہنچنے سے قبل نبی اکرم ﷺ نے تنبیہہ کی تھی کہ جو شخص پہلے پہنچے وہ میرے آنے تک پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔
اس کے بعد نبی اکرم ﷺ پہنچے تو اس چشمے سے چلو بھر بھر کر پانی نکالا اور ہاتھ منہ دھو کر اسے چشمے میں انڈیلا تو چشمے سے خوب پانی آنے لگا۔ صحابہ کرام نے خوب سیر ہو کر پیا۔
راستے میں نبی اکرم ﷺ نے پیشین گوئی کرکے آگاہ کردیا تھا کہ آج رات سخت آندھی چلے گی، لہذا کوئی نہ اٹھے اور اپنے جانوروں کو بھی باندھ دے۔راستے میں آپ ﷺ نمازوں کو تقدیم و تاخیر کرکے بھی پڑھتے تھے۔
بالآخر لشکر جب تبوک پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دے کر رغبت دلائی، دنیا و آخرت کی بھلائی، انعامات کی خوش خبری اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے۔
مقابلے میں رومی تھے، جو سب سے بڑی عسکری طاقت سمجھے جاتے تھے۔ اس وقت نبی اکرم ﷺ نے پیش قدمی نہ کی نہ رومی آگے بڑھے۔ اس لشکر کو دیکھ کر رومیوں کے دلوں میں خوف طاری ہوگیا اور آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس دوران ایلہ کا عیسائی حکمران یوحنا نے آپ ﷺ کی خدمت میں سفید خچر پیش کیا، اپنی چادر پیش کی اور جزیہ دینا منظور کر لیا۔
یہ آپﷺ کی زندگی کا آخری غزوہ تھا اور اس میں جنگ کی نوبت نہیں آئی مگر پھر بھی یہ غزوہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس غزوے کے متعلق سورۃ توبہ کی کئی ایات نازل ہوئی ۔
اس غزوے کے دوران اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے منافقین کے چہرے بے نقاب کیے۔ اس پر آپ ﷺ نے اپنا رازدار حذیفہ بن الیمانؓ کو بنایا۔
80 کے قریب منافقین نے بہانے بازی کرکے رسول اللہ ﷺ کو بعد میں اپنا عذر پیش کردیا تھا۔
تین صحابی حضرت کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنھم سستی کی وجہ سے شریک نہ ہوئے۔
تینوں صحابی شرمندہ تھے اور مغفرت طلب کررہے تھے۔ ان کا یہ عالم تھا کہ حضور اکرم ﷺ کی ناراضی بھی برداشت کرتے تھے۔ مسجد میں نماز تو پڑھتے تھے مگر نگاہ نبوی کے لیے تڑپتے تھے۔ بالآخر اللہ نے ان کی توبہ سن لی اور ان کے بارے میں مغفرت کی وحی نازل کرکے ان پر سکینت طاری کردی۔
15 مارچ 2026
حوالہ جات:
1- الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری
2- اسلامی تاریخ - امتیاز پراچہ
3- سیرت خاتم الانبیاء از مولانا مفتی محمد شفیع رح
4- معارف القرآن - مفتی محمد شفیع رح
ایک تبصرہ شائع کریں
Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks