سرکاری اسکول سے مراد وہ تعلیمی ادارے ہیں، جن کے تمام اخراجات بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومت کے ذمے ہوتے ہیں۔ اسکول کی عمارت سے لے کر اساتذہ کی تنخواہوں تک کے تمام معاملات حکومت خود برداشت کرتی ہے۔ ان ادروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور ان سے کسی قسم کا کوئی مالی تعاون کرنے کے لیے
دباؤ نہیں ڈالا جاتا تاکہ ہر طبقے کا بچہ تعلیم حاصل کرسکے۔
![]() |
| سرکاری اسکول کو بنائیں معیاری اسکول |
تعلیم حاصل کرنا سب کا حق ہے، چاہے امیر ہو یا غریب۔ آج کے دور میں سرکاری اسکولوں کی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ سرکاری اسکول صرف غریب عوام کے نام کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔ وہاں امیر شخص اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا پسند نہیں کرتے، غریب بوجہ مجبوری یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ ان اسکولوں میں بنیادی ضروریات کا نہ ہونا ہے۔ نہ پینے کا صاف پانی میسر، نہ ہی صفائی کا کوئی خاص انتظام۔ نہ بیٹھنے کے لیے مکمل فرنیچر، نہ ہی مکمل کلاسز۔ بجلی کا کوئی متبادل ہونا تو دور بلکہ بجلی موجود ہونے کی صورت میں بھی بچے گرمی سے بے حال ہوتے ہیں۔ کیوں کہ کلاس میں چار میں سے ایک پنکھا کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہوتا ہے۔ بیت الخلاء کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہاں کا رخ کرنے پر ایک عام انسان کا دم گھٹنے لگتا ہے جب کہ کہا جاتا ہے کہ: "بیت الخلاء سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں۔" ہر سرکاری اسکول کے باہر ایک کچرا کوڑی اسکول کے ماحول کو مزید بد تر بنا دیتی ہے، جس کی اٹھنے والی بو ہر پرفیوم کے برانڈ کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ حکومت اس کے خلاف کوئی ایکشن بھی نہیں لیتی۔
سرکاری اسکولوں کا نصاب اور طریقہ تدریس جدید دور کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی عملی مشقوں کی بجائے رٹا سسٹم پر زور دیا جاتا ہے۔ اسکولوں میں سائنس لیبارٹریز، کمپیوٹر لیبز اور لائبریریوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ گویا کمپیوٹر پڑھاتے ہیں، بغیر کمپیوٹر کے۔اس غیر معیاری طریقہ تدریس کی وجہ سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں اور وہ دنیا کے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اسکول کے اندرونی معاملات بھی کچھ ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بقول حکومت کے وہ سب کچھ مفت فراہم کرتی ہے۔ لیکن ایک رزلٹ کارڈ کے نام پر ان غریب بچوں سے بھی پچاس ساٹھ روپے وصول کیے جاتے ہیں، جن کے پاؤں میں ٹوٹی چپل، پیوند لگے اونچے کپڑے اور بال دھاگوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ ان سے پیپرز یا اسکیم کی فوٹو کاپی کے پیسے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ وہاں اکثر طلبہ کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ لکھنے کے لیے کاپی بھی نہیں خرید سکتے۔ والدین پورا سال گھر بٹھا کر آخری ہفتے میں اس لیے اسکول بھیجتے ہیں کہ پروموٹ تو بچے کو کر ہی دیا جائے گا تو اسکول بھیج کر کاپیاں خرید کر پیسے ضائع کیوں کریں؟
بعض اوقات والدین اپنی جان چھڑانے اور بچے کو وقت گزاری کے سبب اسکول میں داخل کروا دیتے ہیں تاکہ بچوں کے جانے کے بعد وہ اپنی نیند پوری کرسکیں یا پھر گھر کے کام کاج نمٹا سکیں۔ ان کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا کہ بچہ اسکول میں کچھ پڑھ بھی رہا ہے یا نہیں؟ کوئی گھر کا کام ملا ہے یا نہیں؟ گھر میں بھی پڑھائی پر بالکل توجہ نہ ہونے پر بچوں کی تعلیمی حالت بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔
وہاں چند اساتذہ تو اپنے پیشے سے مخلص ہوتے ہیں، جو گھسیٹ کر پاس ہو کر آنے والے بچوں کو کم از کم الف ب پ سکھا ہی دیتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ اساتذہ کا ایک گینگ بھی ہوتا ہے، یہ طبقہ پڑھانے اور کلاس میں جانے کو خود پر حرام سمجھتا ہے۔ اسکول پر ان ہی کی حکومت ہوتی ہے، یہ ہی نہیں بلکہ بقیہ اساتذہ سے پیسے وصول کرنے پر بھی ایک ڈون مامور ہوتا ہے، جو ان سے ذبردستی پیسے نکلوانے میں ماہر ہوتا ہے۔
سرکاری اسکولوں کی ابتر صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے صرف کاغذ پر دستخط ضروری نہیں ہوتے کہ یہ بل پاس ہو گیا، وہ بل پاس ہو گیا بلکہ ان کو عمل میں لانا اہم ہوتا ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو سرکاری اسکولوں میں بنیادی ضروریات کو یقینی بنانا چاہیے۔ اسکول میں پینے کا صاف پانی، صفائی کا مناسب نظام، استعمال کے قابل بیت الخلاء موجود ہونے چاہییں۔ بجلی، پنکھے، کلاس رومز، کرسیاں میزیں، اور دیگر ضروری اشیاء کی مرمت کا فوری انتظام کیا جانا چاہیئے اور اسکولوں کو دیے گئے فنڈز پر مکمل نگرانی ہونی چاہیئے کہ کیا انہیں درست مقام پر خرچ کیا جا رہا ہے؟
اساتذہ کی حاضری کے متعلق بہت سے اقدامات حال ہی میں بہتر ہونا شروع ہو چکے ہیں لیکن دو نمبر اساتذہ اس کے باوجود اس ہی روش پر گامزن ہیں۔ صرف حاضری کے لیے ایپ اور لوکیشن ٹریس ہی ضروری نہیں بلکہ تعلیمی معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے فرائض درست طریقے سے انجام دیں۔
والدین کو چاہیئے کہ خود گھر پر بھی توجہ دیں۔ گھر کا کام باقاعدگی سے حل کروائیں، خود پڑھے لکھے نہ ہوں تو اگر گھر کے بڑے بچے کو کہیں کہ اسکول کے بعد گھر کا کام کرنے میں دلچسپی لے اور پھر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی ساتھ کام مکمل کروائے تو اس سے ان کی تعلیمی حالت بہتر ہونے کا امکان ہے، اس سے خود والدین غیر ضرری ٹیوشن فیس دینے سے بھی بچ جائیں گے۔
یہ ہی نہیں بلکہ اسکولوں کے اخراجات کے نام پر اساتذہ سے ہر ماہ زبردستی پیسے وصول کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیئے تاکہ جو اساتذہ اپنے پیشے سے مخلص ہیں وہ کسی بھی ذہنی دباؤ میں نہ رہیں اور خوش اسلوبی سے اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔ اس طرح اساتذہ یہ ہی پیسے طلبہ کی بہتری کے لیے بھی لگا سکتے ہیں۔ جیسے: ہر ماہ اچھی کارکردگی دکھانے والے کو ایک انعام دینا، انہیں کاپی پینسل فراہم کرنا وغیرہ۔ تاکہ بچے اسکول آنے اور پڑھنے میں دلچسپی لیں اور سرکاری اسکولوں کے نتائج بہتر سے بہتر ہو سکیں۔
حکومت نصاب کو رٹہ سسٹم سے نکال کر عملی، سائنسی اور تنقیدی سوچ پر مبنی بنائے۔ ہر اسکول میں بنیادی سائنس لیب اور کمپیوٹر رومز کو فعال کیا جائے تاکہ بچے دورِ حاضر کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔
اگر ہم باوقار، خوددار اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی زبوں حالی پر فوری توجہ دینی ہوگی۔ حکومت، اساتذہ، معاشرے اور والدین کو مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی تاکہ اس صورتحال کا تدارک کیا جا سکے۔
4 ستمبر 2026
بروز جمعہ

ایک تبصرہ شائع کریں
Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks