ایک ڈیڑھ سالہ سفر کی داستان

تحریر: سیدہ حفظہ احمد
حیدرآباد، سندھ
"میں نے اک عمر خرچ کی تم پر
تم میرا قیمتی اثاثہ ہو"
بی ایڈ 1.5 نام ہے، نہ بولنے کا، نہ ہنسنے کا، بس رونے دھونے اور نیندیں کھونے کا، ساتھ میں ذہنی توازن کھونے کا۔
مجھے شوق تھا 2017 سے بی ایڈ کرنے کا جب سائیکالوجی پڑھانے والی مس فاطمہ نے کہا تھا: "موقع ملے تو بی ایڈ ضرور کرنا"۔ تب سے لت لگ گئی تھی۔ پھر سوچا تھا ماسٹرز کے بعد کروں گی ۔۔۔۔۔ لیکن اتنا وقت گزر جانے کے بعد خیر شوق تو بہرحال نہیں رہا تھا، مگر دلچسپی اور تجسس کہیں نہ کہیں بہرحال تھا لیکن یہ سب داخلہ لینے کے بعد زائل ہوگیا تھا پھر صرف برڈن باقی رہ گیا تھا کہ اب بس ہر صورت مکمل کرنا ہے ۔
داستان
کیوں کہ جاب کے ساتھ بندہ مارننگ نہیں، ایوننگ ڈگری لیتا ہے اور پھر ایوننگ والوں کو اولڈ کیمپس والے روبوٹ سمجھتے ہیں، ذرا سا رحم یا لحاظ نہیں کرتے۔ سوائے ایک دو ٹیچرز کے اور پھر کہتے ہیں: "پورا ہفتہ ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس۔" بھلا انہیں کوئی بتائے پورا ہفتہ کیسے؟ تین دن تو ہماری زندگی میں ہوتے ہی نہیں۔ یعنی جمعہ ہفتہ اتوار کیوں کہ وہ کیمپس کی نذر ہو جاتے ہیں۔ باقی چار دن کو پورا ہفتہ کاؤنٹ کرتے ہیں اور اتنا ورک لوڈ کہ بندے کو آدھا نفسیاتی کرکے چھوڑتے ہیں۔ اسی لیے میں اولڈ کیمپس سے بی ایڈ خاص طور پر شام میں کسی کو بھی سجیسٹ نہیں کروں گی (اس کے باوجود ایک دوست کو ایڈمیشن لینے پر آمادہ کر لیا)۔۔۔
پھر ارجمند بانو نے امتحانات کے بعد لٹکایا ہوا تھا۔ سمپل سا پیپر تھا، ٹائم ٹیبل کے ساتھ ہی لے کر جان چھوڑ دیتیں ہماری، مگر نہیں! چھ آرٹیکلز اور ریسرچ پکڑادی کہ: "اس کو پڑھ کر رپورٹ بناؤ پھر اس پر رفلیکشن لکھو اور وائے وا دو۔" ایک آرٹیکل پڑھنا اس پر رفلیکشن اور رپورٹ تیار کرنا، صرف تین مارکس چھ پر 15 مارکس، ایک ہفتہ پندرہ دن بعد کرو بھلے لیکن کرنا ضرور ہے۔ یعنی دیکھو آفیشلی ختم ہوگیا ناں۔ مگر پھر بھی جان نہیں چھوڑ رہیں تھیں۔ اب لے کر بیٹھیں یہ سب تو گھر والے بولتے، اب کیا رہ گیا؟ کوئی آجائے تو بولے کون سے پیپر ہورہے اب؟ کیا پڑھ رہی ہو؟ ہیں ابھی تک پورے نہیں ہوئے پیپر؟ معاذ اللہ! گویا سپلی لگ گئی ہو ہماری۔ ان کو تفصیل بتاتے بھی شرمندگی ہوتی کہ ہم یونی کو اتنے اچھے لگ گئے کہ جان نہیں چھوڑ رہے۔ اور پھر رزلٹ بھی لیٹ دیتے لاسٹ سمسٹر مکمل ہوگیا تھا۔مگر دوسرے سمسٹرز کے رزلٹ کا پتہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ خود سے کام ہو نہیں رہے شاگرد روبوٹ ہیں۔۔۔۔
دل کی بھڑاس سمجھیے یا کچھ بھی۔ حقیقت یہ ہی ہے، وہاں ہر شخص کھویا ہوا، پریشان کن اور پچھتاتا نظر آتا ہے۔ ماسٹرز ان اسلامیات کی جونیئر میں سے کچھ لڑکیاں بھی وہاں ہمارے بعد آئیں۔ مطلب یہاں بھی جونیئر ہی۔۔ ہم نے کہا (میں اور شرف النساء نے): یہاں آکر کیسا لگا؟ ان کی حالت دیکھنے والی تھی۔ گویا ہر شخص ہی بے زار نظر آیا۔
تن بدن میں آگ جب لگتی ہے، جب کوئی انجان اور ہمارے حال سے ناواقف شخص بھلا یہ کہہ دے "ہئیں! بی ایڈ! اس کے لیے کون پڑھتا ہے؟ اس کی ڈگری تو یوں ہی مل جاتی ہے۔" اس وقت دل چاہتا تھا کہ ذرا دو چار تھپڑ رسید کروں اور کہوں: ذرا ہماری جوتی میں پاؤں ڈال کر دیکھو بھلا کیسا معلوم ہوتا ہے؟ (یعنی بی ایڈ اولڈ کمیپس سے کرکے تو دیکھو) اپنا سر دیوار میں نہ مارنے کا دل کرے تو کہنا، بی ایڈ کی ڈگری یوں ہی مل جاتی ہے۔
ہاں! بہت اچھے اساتذہ بھی شامل رہے ہمیشہ کی طرح جو اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ ان میں سر فہرست ہیں "سر دلشاد صاحب"۔ وہ ان اساتذہ میں شامل ہوگئے جن کا شمار میرے آئیڈیل اساتذہ میں ہوتا ہے۔ نہ جانے کیوں بہت کم لوگ ان کو سمجھ پاتے ہیں، کیوں کہ وہ ہمیشہ کھری بات کرتے ہیں۔ اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر طلباء و طالبات ان سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ہمیشہ طلبہ کو اپنے پیشے سے منسلک رہنے کے ساتھ اللہ سے جوڑنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں تاکہ اس عظیم پیشے سے منسلک ہونے کے بعد استاذ اپنا کام بھر پور طریقے سے انجام دے جس کا حاصل صرف اللہ ہو۔ ان کی گہری باتیں، خالص اردو، قرآن و حدیث کے اشارے ہر ایک کو سمجھ نہیں آتے تھے۔ لیکن جسے سمجھ آتے وہ اپنے آپ سے شرم سار ہونے لگتا۔ کہ واقعی ہم کس مقام پر کھڑے ہیں؟
پھر ایک اور آئیڈیل رہیں "میم نائلہ" جن کا نرم رویہ طلباء کو بغور سننا اور سمجھ کر ان کے مسائل کو سننا دل کو بھاتا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے وہ آخری سمسٹر میں اپنی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ہمیں خیر آباد کہہ گئیں، ان ہی کی جگہ پر پھر آئیں میم ارجمند، جنہوں نے ہم پر ان اسائنمنٹ اور ایکسٹرا وائے وا کا بوجھ ڈالا۔ اور یہ آدھی تحریر بھی اس وقت ہی لکھی تھی، جب سمسٹر کے اختتام پر انہوں نے رپورٹس کو مسلط کیا لیکن  آج ان سے مل کر اچھا لگا۔
پھر آتی ہیں "میم انجم شاہین" جنہوں نے ٹیچنگ پریکٹسز، پورٹ فولیو پر ورک کروایا۔ انہوں نے ہم سے خوب کام نکلوایا۔ لیکن جو ہم نے ان سے سیکھا وہ ناقابل بیان ہے۔ ان کی ہر کلاس میں کہی جانے والی یہ بات کہ: "آپ لوگ آج سوچ رہے ہوں گے میڈم نے یہ کیا کیا کرنے کے لیے دے دیا ہے لیکن کل کو آپ آگے جائیں گے تب آپ کو یہ فائدہ دیں گی۔"  واقعی چند دن گزرنے کے بعد ہی ایک ٹیسٹ دیا تو وہاں ایک سوال آیا۔
Table of specification 
سے متعلق۔ اس میم کی یہ بات کانوں میں گونجنے لگی۔ میم انجم نے آخری سمسٹر میں پڑھا کر گویا تینوں سمسٹر جتنا کام نکلوایا لیکن پھر بھی ہمارا دل جیت لیا۔ ایسے اساتذہ بہت کم ملتے ہیں، جو کام نکلوانا جانتے ہیں۔ پھر آتے ہیں "سر طارق"، نہ جانے وہ خود بھی روبوٹ کی طرح کیوں لگتے تھے؟ بہرحال بہت آسانی کر دیتے ہیں طلباء کے لیے۔ روزانہ کی بنیاد پر ڈھیر سارا کام دے کر اور اس ہی میں سے پیپر کے سوال بتا کر۔ روزانہ کی بنیاد پر اگر وہ کام کیا جائے تو لگتا تھا گویا سمسٹر کے آخر میں ایک کتاب تیار ہوجائے گی۔
اور تینوں سمسٹر میں وہ ہمارے ساتھ رہے گویا وہ ہمیں خوش قمست قرار دیتے تھے اور تینوں سمسٹر میں کتاب نما نوٹس بنوا کر ابھی تک واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کررہے۔ (یہ تحریر جب لکھی تھی تب واپس نہیں کیے تھے اب ایک نوٹ بک واپس کردی ، دوسری نوٹ بک کسی ٹیچنگ اسسٹنٹ کو دے دی کہ انہیں نوٹس بہت پسند آئے تھے)
پھر آتے ہیں "سر علی مرتضیٰ" جنہوں نے ہمیں صرف لاسٹ سمسٹر میں پڑھایا۔ آہاں پریزینٹیشن زیادہ لی اور اسکول ڈویلپمنٹ پلان دینے پر سراہا کہ بس میں نے تو اپنا اسکول کھولنے کی ٹھان لی تھی۔
پھر آتی ہیں "میم زہرہ" جو ہمارے ساتھ صرف پہلے ہی سمسٹر میں تھیں اور انہوں نے پورا سمسٹر بورڈ پر امبریلا (چھتری) بنا بنا کر اور کار کے دو پہیے بنا کر مکمل کیا۔ لیکن تھیں وہ بھی نائس کہ عمرے کی وجہ سے مڈ ٹرم کے معاملے میں بہت تعاون کیا اور مجھ پر اعتماد کرکے ہفتہ پہلے ہی مجھ سے پیپر لیا۔
پھر آتی ہیں "میم سمیرا" جو دو سمسٹر بس میچنگ کا اسکارف ہاتھ میں گھڑی اور ایک ہاتھ کے ناخنوں پر میچنگ کی نیل پالش لگانا نہیں بھولتی تھیں۔ پڑھائیں یا نہ پڑھائیں لیکن اپنے بچوں کی تعریفیں کرنا نہ بھولتی تھیں۔ البتہ ان سے میری کچھ بنی نہیں۔ کیوں کہ عمرے کا سن کر بھی جو لحاظ نہ کرے اور یہ کہے کہ "حج تھوڑی ہے، ٹکٹیں آگے کروالو". کتنا آسان تھا ان کے لیے یہ کہنا؟ لیکن اگر کوئی بندہ ٹراما سے نکلا ہے اور بمشکل اپنے چند روپے جوڑ کر بلاوے کا منتظر رہ کر بلاوے پر جارہا ہے تو کون ہوتا یہ کہنے والا کہ اس دن جاؤ اس دن نہیں۔ بہر حال! میں نے امتحان کے مقابلے میں عمرے کو ہی ترجیح دی اور واپس آنے کے بعد اس حوالے سے ادا سی آر پون کمار جو کہ خود ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان کا توکل دیکھ کر تھوڑی موٹیویشن ملی، جس نے یہ کہا تھا کہ "ادی عمرہ کرکے آگئیں، اللہ کا گھر دیکھ لیا یہ زیادہ اہم ہے نہ کہ یہ امتحان۔ جی آر مدیحہ نے بھی اس معاملے میں بہت مدد کی اور میری غیر حاضری میں بھی حاضری کو برقرا رکھا۔
پھر آتے سو کالڈ ڈین آف دا فیکلٹی، جنہوں نے خود پورے سمسٹر میں ایک دو کلاس میں دو چار پوائنٹس پڑھائے۔ پھر مکمل پیپر حل کرنے کے بعد بھی کافی سارے طلبہ کو بلاوجہ فیل کیا اور مجھ سمیت بہت ساروں کو سی گریڈ میں پاس کرکے اپنے آپ کو ناجانے کون سا خدا سمجھا؟ سوال کرنے پر نہ کاپی دکھائی گئی، نہ ہی وجہ بتائی گئی کہ اتنے کم مارکس کیوں دیے؟ بلکہ یہ کہا گیا کہ "پاس تو ہو ناں! فیل نہیں ہو اور یہ ہی ڈیزرو کرتی ہو۔"
What the hell is this yr?
مطلب حد ہی ہوگئی۔ کہاں سے آتے ہیں ایسے لوگ اور حکمرانی کرنے لگ جاتے ہیں اور خود کو اقتدار کی خوشی میں کیا سمجھنے لگتے ہیں؟
آہاں اقتدار کی نہیں اقتدار سے ہٹ جانے (ریٹائرمنٹ) کا غصہ تھا شاید۔
پھر آتے ہیں "سر امام بخش" جن کی تعریفیں میں پہلے سمسٹر سے سنتی آئی تھی. بالآخر لاسٹ سمسٹر میں ہی ان سے ٹاکرا ہوا۔ اور ان کا پرچی سسٹم بھی بھگت لیا۔ جنہوں نے ڈسکشن، لیکچر اور پریزینٹیشن پر مبنی ایک ہی ٹاپک کو چلایا۔ شروع میں سوچا کہ اچھا ہے، چلو نوٹس بن جائیں گے۔ لیکن پھر سر نے مڈ ٹرم کی جگہ پروجیکٹ دیا، وہ دلچسپ رہا۔ لیکن اس سے نوٹس بنانے کی محنت ضائع گئی۔ دوسرا یہ کہ لیکچر بیسڈ پیپر تھا تو اس لیول پر آکر یہ طریقہ شاید میرے حساب سے صحیح نہیں تھا۔ چھوٹے لیول پر یاد کروانے کے لیے اچھا طریقہ ہے۔
اس سفر میں ہر لمحہ کرائم پارٹنر شرف النساء تھی، جو میرے ساتھ ہنسی، میرے ساتھ روئی اور موڑ پر میرا ساتھ دیا۔ یہ ہی نہیں بلکہ اس نے پرنٹنگ کا سارا کام اپنے ذمے لیا ہوا تھا اور پرنٹ اور فوٹو کاپی کے تمام کام میرے بھی وہ خود کروا کر دیتی تھی۔
اس بہترین سفر میں سب سے زیادہ شکریہ علامہ گوگل اور مولانا چیٹ جی پی ٹی کا، جنہوں ہمارے ہر سوال کا جواب دے کر ہمیں مطمئن کیا۔
یہ تھا ڈیڑھ سال کا سفر جو رو دھو کر گزر گیا۔ اب سوچتی ہوں یہ سب اتنا مشکل تو نہیں تھا۔
10 ستمبر 2026
بروز جمعرات

Post a Comment

Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks

جدید تر اس سے پرانی