سیدۃ النساء، خاتون جنت، زہرا بتول، لخت جگر، دختر رسول ﷺ، حضرت فاطمہ◌ؓ سادگی، صبر و شکر، اطاعت الٰہی کا پیکر تھیں۔ آپ نبی کریم ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی، اور تمام اولاد میں سب سے زیادہ چہیتی تھیں۔ نو سال کی عمر میں جب والدہ حضرت خدیجہ◌ؓ رحلت فرماگئیں تو حضرت فاطمہ◌ؓ تنہا ہوگئیں۔ اس موقع پر حضرت اسماء بنت عمیس◌ؓ، حضرت سلمیٰ◌ؓ (ام رافع)،خولہ بنت حکیم◌ؓ، ام ایمن◌ؓ (برکہ بنت ثعلبہ) جیسی وفادار، خدمت گزار، خیر خواہ اور مشفق خواتین نے آپؓ کا ساتھ دیا اور ہمیشہ ان کی خوشی و رنج میں شریک رہیں۔
حضرت سلمی◌ؓ بہن کی طرح تھیں، جب کبھی آپؓ کی سے ملنے آتیں تو گھر کے کاموں میں بھی آپؓ کا ہاتھ بٹا دیتیں اور گھر میں کچھ کھانے کو نہ ہوتا تو خود کھانا پکا کر لے آتیں۔ آپ◌ؓ کی محبت اور عقیدت کی بنا پر وہ آپ کی خدمت گزار رہتیں۔
حضرت اسماء بنت عمیس◌ؓ آپ کی سب سے قریبی سہیلی تھیں، ایک مرتبہ حضرت فاطمہ◌ؓ نے آپ◌ؓ کو کہا کہ میرا جنازہ ایسے تیار کرنا کہ لوگ میرے جنازے کو نہ دیکھیں، تو آپؓ نے وصیت کے مطابق غسل و کفن کے بعد (حبشہ کی عورتوں کی طرح) کھجور کی چھال سے آپ◌ؓ کا جنازہ اچھی طرح ڈھانپ دیا اور وفاداری کا ثبوت دیا۔
اسی طرح ایک اور خیر خواہ خاتون حضرت خولہ بنت حکیم◌ؓ بھی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ◌ؓ بیماری کے باعث کافی کمزور ہوگئیں تو خولہ بنت حکیم◌ؓ عیادت کے لیے آئیں اور کہا: "اے فاطمہ! اپنا خیال رکھا کرو، تم نبی ﷺ کی بیٹی ہو۔" تو آپؓ نے فرمایا: "میں تو اپنی تکلیف بھی اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتی ہوں۔"
ام ایمن◌ؓ (برکہ بنت ثعلبہ) جو نبی کریم ﷺ کی ماں کی طرح تھیں۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: "یہ میری ماں کے بعد میری ماں ہیں۔" حضرت فاطمہ◌ؓ بھی ان کو والدہ کی طرح عزت دیتیں اور ان کا احترام کرتی تھیں۔ جب نبی کریم ﷺ بھی اس دنیا سے پردہ فرما گئے تو حضرت فاطمہ◌ؓ غمگین رہنے لگیں اور شدت غم سے رویا کرتیں، تو ام ایمن◌ؓ آپ◌ؓ کو تسلی دیتیں اور صبر کی تلقین دے کر ان کا حوصلہ بلند کرتیں اور یاد کرواتیں کہ "تم تو جنت کی عورتوں کی سردار ہو۔"
ان تمام خواتین کی قربت اور محبت سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ دوستی میں ہم عمر ہونا ضروری نہیں بلکہ دین، محبت، وفا اور مخلص ہونا ضروری ہے۔
13-ستمبر-2025
بروز ہفتہ
ایک تبصرہ شائع کریں
Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks