تحریر: سیدہ حفظہ احمد (حیدرآباد سندھ)
قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ مال و زر کے ساتھ جارہا تھا۔ یہ تجارت قریش کی شان و شوکت کو بڑھاتی تھی۔
نبی اکرم ﷺ نے اس قافلے کا پتہ لگانے کے لیے حضرت سعید بن زید رض کو بھیجا۔ جب یہ قافلہ مقام حوراء تک پہنچا تو انہوں نے واپس آکر نبی اکرم ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ 313 افراد کو لے کر روانہ ہوئے۔
دوسری جانب ابو سفیان اپنے اس لشکر کے ساتھ محتاط تھا اسی لیے وہ ہر گزرتے لشکر سے معلومات دریافت کرتا۔ اس طرح اسے معلوم ہوگیا کہ مسلمان اس پر حملہ کرنے کے درپے ہیں۔ اس نے ضمضم بن عمرو غفاری کو مکے روانہ کرکے مزید لوگوں قریش کے لوگوں کو مال کی حفاظت کے لیے جمع کرنے کو بھیجا۔ چنانچہ لوگ جلد از جلد اس قافلے کی مدد کو روانہ ہونا شروع ہوئے۔ 1000 کا لشکر 100 گھوڑوں اور 600 زرہوں اور اونٹوں کے ساتھ ابو جہل کی قیادت میں کفار مکہ کا لشکر پیش قدمی کرنے لگا۔
نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا جس میں حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت مقداد نے آپ کا ساتھ دینے کی تصدیق کروائی۔ اس کے بعد آپ نے پھر مشورہ مانگا تو سعد بن معاذ نے فرمایا: "اگر آپ ہمیں لے کر اس سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے۔" نبی اکرم ﷺ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آگے بڑھے اور قریش کے لشکر کا جائزہ لینے لگے اتنے میں ایک بوڑھا شخص مل گیا۔ آپ ﷺ نے اس شخص سے قریش اور محمد ﷺ کے لشکر کا حال پوچھا۔ دونوں کے متعلق پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی شخصیت ظاہر نہ ہو۔ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں لشکروں کا بالکل صحیح حال بتلادیا۔ پھر اسی روز شام کو خبر گیری کرنے ایک جماعت کو روانہ کیا۔ جس میں حضرت علی، حضرت زبیر بن العوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم قائدین تھے۔ انہوں نے دو غلام جو قریش کے لیے بدر کے چشمے سے پانی بھرنے آئے تھے ان کو گرفتار کرکے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔
آپ ﷺ نے ان سے قریش کے لشکر کی جگہ معلوم کی اور پوچھا: روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟" انہوں نے جواب دیا: "ایک دن نو دوسرے دن دس۔" نبی اکرم ﷺ نے اس وقت ان کی تعداد کا اندازہ کیا کہ کفار کی تعداد نو سو سے ہزار کے درمیان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا معززین قریش میں سے کون کون ہے؟ تب انہوں نے بہت سارے نام گنوائے۔ اس لشکر میں مکہ کے بڑے بڑے سردار بھی شامل تھے۔
اس وقت اللہ تعالی نے بارش برسائی اس کی وجہ سے زمین ہمور ہوگئی اور قدم جمنے لگے۔ پھر آپ ﷺ کو حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے ایک ماہر فوجی کی حیثیت سے مناسب جگہ متعین کرکے بتائی اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔
لشکر ترتیب دے کر میدان جنگ میں روانہ ہوئے۔ جب قریش اور مسلمانوں کا لشکر آمنے سامنے ہوا تو قریش کے تین بہادر نکلے تو انصار کے تین صحابی آگے بڑھے۔ اس پر قریش نے کہا: ہمارے پاس ہماری قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ اس پر حضرت عبیدہ بن الحارث، حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ عنھم آگے بڑھے اور بہادری سے مقابلہ کیا۔ تینوں کافر قتل ہوئے اور مسلمانوں میں حضرت عبیدہ رض زخمی ہوئے اور چوتھے یا پانچویں دن شہادت پاگئے۔ اسی طرح ابو جہل معاذ اور معوذ کے سامنے صف آرائی کرتے ہوئے شدید زخمی ہوا اور پھر حضرت عبد اللہ مسعود نے امت کے اس فرعون کا سر تن سے جدا کیا۔
اس جنگ میں بنو ہاشم کے کچھ لوگ زبردستی لائے گئے تھے نبی اکرم ﷺ نے انہیں تکلیف نہ پہنچانے کا حکم دیا۔
اس جنگ میں کئی رشتے دار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئی۔ یہاں تک کہ بیٹے نے باپ کو، دوست نے دوست کو بھائی نے بھائی کو مذہب پر ترجیح نہ دی انہیں دین کی خاطر قیدی بنایا یا پھر قتل کیا۔
اس جنگ میں 14 مسلمان شہید ہوئے لیکن فتح مسلمانوں کو ہوئی اللہ نے ان کی نشان زدہ فرشتوں کے ذریعے مدد کی۔ مشرکین کے 70 آدمی مارے گئے اور 70 قیدی بنائے گئے۔
جو لوگ قیدی بنائے گئے ان کے ساتھ نبی ﷺ نے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے کے مطابق قیدیوں سے فدیہ لے آزاد کرنا طے پایا اور فدیے کی رقم تین ہزار درہم سے ایک ہزار درہم تک تھی۔ ان میں سے کچھ فدیہ دے کر آزاد ہوگئے اور جو فدیہ نہیں دے سکتے تھے ان کو حکم دیا گیا کہ دس لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ اور جو یہ بھی نہ کرسکتے ہوں ان میں کئی قیدیوں کو نبی ﷺ نے بغیر فدیے کے رہا کردیا گیا۔
بالاخر حق و باطل کا یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں مثبت ثابت ہوا جس نے ان کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2- مارچ -2026
حوالہ جات:
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمان مبارکپوری
سیرت خاتم الانبیاء از مولانا مفتی محمد شفیع رح
ایک تبصرہ شائع کریں
Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks