غزوہ خندق

تحریر: سیدہ حفظہ احمد (حیدرآباد سندھ)

غزوہ احد کے بعد قریش نے پھر سے ابو سفیان کی قیادت میں جنگ کرنے کے لیے لشکر اور ساز و سامان تیار کرنا شروع کردیا۔ ان تیاریوں میں 4000 قریش کے ساتھ دیگر قبائل بھی شامل ہوگئے یوں 10000 کا لشکر بن گیا تھا۔
ابو سفیان کی قیادت میں یہ کا لشکر مدینے کی جانب نکل پڑا۔ اس لشکر جتنی آبادی مدینے کی بھی نہیں تھی۔
نبی اکرم ﷺ کو اطلاع ملی تو صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا، جس سے اہل عرب نا واقف تھے اور وہ اس حساب سے محاذ آرائی کرنا بھی نہیں جانتے تھے۔
نبی اکرم ﷺ کو حضرت سلمان فارسی کا مشورہ پسند آیا اور انہوں نے اس پر عمل درآمد کرنا شروع کردیا۔ ہر صحابی کے حصے میں چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا کام سونپا گیا، گویا دس دس آدمیوں پر دس گز زمین تقسیم کی گئی۔ رسول ﷺ خود اس کام میں بنفس نفیس شریک تھے۔
تین ہزار صحابہؓ خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ بھوک کی شدت یہ عالم تھا صحابہؓ نے اپنے پیٹ پر بندھے پتھر دکھائے تو نبی ﷺ نے بھی اپنا پیٹ دکھایا جس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ خندق کھودنے کا یہ کام مسلسل جاری رکھا گیا، صحابہؓ صبح کو کھدائی کرتے اور شام کو اپنے گھر لوٹ جاتے۔ اس طرح چھ دن اور ایک روایت کے مطابق بیس دن میں یہ پانچ گز گہری خندق کفار کے پہنچنے سے پہلے تیار ہوگئی۔
خندق کھودتے وقت ایک ایسی چٹان درمیان میں آگئی جو صحابہؓ سے نہیں ٹوٹ رہی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺ نے بسم اللہ پڑھ ضرب لگائی تو چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں، میں وہاں کے سرخ محلوں کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر فرمایا: مجھے فارس دیا گیا ہے، میں مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں۔ پھر فرمایا: مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں، میں صنعاء کے پھاٹک دیکھ رہا ہوں۔"
رسولﷺ نے حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ کے حوالے مدینے کا انتظام سونپا اور 3000 مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ نبی ﷺ نے کوہ سلع کو پشت کی جانب رکھتے ہوئے صف بندی کی، سامنے خندق تھی، جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہوتی تھی، اس وقت مسلمانوں کا نعرہ "حم لا ینصرون" (حم ان کی مدد نہ کی جائے گی) تھا۔
کفار کا لشکر پہنچا تو توقع کے مطابق مقابلے کے لیے کوئی نہیں تھا انہوں نے اپنی فتح کو یقینی سمجھ لیا، مگر آگے چل کر انہیں غیر متوقع خندق نظر آئی تو وہ خوف میں مبتلا ہوگئے کیوں کہ ان کی سمجھ سے باہر تھا کہ یہ جنگ کا کیسا طریقہ ہے؟ 
عورتیں اور بچے بنو قریظہ کی آبادی کے قریب ایک قلعے میں موجود تھے۔ حضرت حسانؓ وہاں موجود تھے۔ دشمن نے اس قلعے پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو نبی ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ نے بہادری سے اس یہودی پر حملہ کیا اور اس کا سر کچل دیا۔ جب وہ شخص واپس نہ پہنچا تو اس سے یہودیوں کو محسوس ہوا کہ اندر بھی مسلمانوں کا حفاظتی لشکر موجود ہے، اس لیے ان کی دوبارہ حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
مشرکین خندق کے پاس پہنچ کر غصے میں مبتلا ہوگئے اور ادھر مسلمان انہیں بے یارو مددگار دیکھ رہے تھے۔ چناں چہ بڑی مشکل سے ان کی ایک جماعت نے ایک تنگ مقام سے خندق پار کرلی، ادھر حضرت علیؓ نے صحابہ کے ساتھ مل کر واپسی کا راستہ بند کردیا اور ان کے گھوڑوں کو بھی قبضے میں لے لیا۔ اس مقام پر دونوں جماعتوں میں محاذ آرائی ہوئی اور حضرت علیؓ نے زبردست مقابلہ کرکے عمرو بن عبد ود کا کام تمام کردیا۔ باقی تمام مشرکین نے خندق سے فرار اختیار کی، یہاں تک کہ عکرمہ نے بھاگتے ہوئے اپنا نیزہ بھی چھوڑدیا۔
اسی طرح کئی بار مشرکین نے خندق پار کرنے کی کوششیں جاری رکھی مگر مسلمان ان پر تیر پھینک کر روکتے رہے۔ 5 ہجری میں لڑی جانے والی اس جنگ میں نبیﷺ کی بعض نمازیں قضاء بھی ہوئیں جس پر ان کو ملال تھا۔
اس دوران بنو غطفان کے ایک شخص نعیم بن مسعودؓ، نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! میں مسلمان ہوگیا ہوں، لیکن میری قوم اس بات سے لا علم ہے، آپ کوئی حکم دیجیے۔" آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ فوجی اقدام نہیں کرسکتے تو فرمایا کہ جس قدر ممکن ہو ان کی حوصلہ شکنی کرو۔ اس حکمت عملی سے دشمن کی فوج میں پھوٹ پڑ گئی۔ مزید اللہ تعالیٰ نے آندھی اور طوفان کے ذریعے دشمنوں کی صفیں الٹ دیں۔ اس طرح دشمن خوف زدہ ہوگئے کہ مسلمانوں کی اس طاقت کو اور ان کے حوصلوں کو توڑنا ایک نا ممکن کام ہے۔

12 مارچ 2026

حوالہ جات:
1- الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری
2- اسلامی تاریخ - امتیاز پراچہ
3- سیرت خاتم الانبیاء از مولانا مفتی محمد شفیع رح

Post a Comment

Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks

جدید تر اس سے پرانی