غزوہ خیبر

 تحریر: سیدہ حفظہ احمد (حیدرآباد سندھ)
غزوہ احزاب کے بعد صلح حدیبیہ میں قریش کی جانب سے خطرے کا زور کم ہوگیا اور مسلمان امن میں آگئے لیکن جنگ احزاب کے دو بازو یہودی اور نجدی بھی تھے، جن کی طرف سے خطرہ ابھی بھی باقی تھا۔
مدینہ کے شمال میں تقریبا سو میل کے فاصلے پر ایک بستی تھی، جسے خیبر کہا جاتا تھا، جہاں یہودی آباد تھے۔ بنو نضیر کا مدینہ سے اخراج ہوا تو یہ قبیلہ بھی وہاں جا کر آباد ہوگیا۔ اس طرح مسلمانوں سے ان کی دشمنی زور پکڑ گئی۔
چونکہ خیبر سازشوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
جیسے ہی قریش کی طرف سے فضا سازگار ہو گئی تو 7 ہجری میں رسول ﷺ نے ان مجرم یہودیوں سے حساب چکتا کرنے کا فیصلہ کیا، جو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔
خیبر کی فتح کے بعد رسولﷺ  کو زہر دینے کے لیے سلام بن مشکم کی بیوی نے زہر آلود بھنی ہوئی بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی اور نبی اکرمﷺ کے پسندیدہ عضو "دستہ" پر بھی بہت سارا زہر ملادیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے چکھ کر بتادیا کہ اس میں زہر ملا ہے، آپ کے ساتھ حضرت بشر بن براءؓ بھی تھے، انہوں نے ایک ٹکڑا نگل لیا تھا اور ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ اس عورت کو طلب کیا گیا تو اس نے اس بات کا اقرار کرلیا تھا۔
نبی اکرم ﷺ کو مدینہ کے خلاف سازشوں کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے تصدیق کروائی تو اطلاع درست تھی۔ اس دوران آپ ﷺ نے حضرت سباع بن غرطفہ انصاریؓ کو نائب مقرر کیا۔ اس کے بعد آپ نے فوج تیار کی اور 1400 مسلمانوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔
 راستے میں آپ نے رجیع کے مقام پر قیام فرمایا۔ یہ درمیانی راستہ تھا، جہاں دشمن عناصر جمع ہونے والے تھے، کیوں کہ خیبر کے یہودیوں اور قبیلہ بنو غطفان کے درمیان آپس میں خیبر کی نصف پیداوار پر معاہدہ ہوا تھا۔ اس حکمت عملی سے وہ لشکر تیار نہ کرسکے اور سمجھ نہ پائے کہ مسلمانوں کا لشکر کس سمت جائے گا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک راہنما "حسیل" کی مدد سے مرحب (کشادگی) کے راستے سے خیبر کا رخ کیا اور وہاں قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔
خیبر کی حدود میں داخل ہوتے ہی نبی اکرم ﷺ نے اعلان کیا: "میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ محبت کرتے ہیں۔" صبح ہوئی تو آپ ﷺ کی خدمت میں صحابہ کرامؓ حاضر ہوئے۔ ہر ایک یہ ہی سمجھتا اور آرزو کرتا تھا کہ جھنڈا اسے عطا کیا جائے گا۔ اس وقت نبیﷺ نے حضرت علیؓ کو بلوا کر انہیں جھنڈا  عطا کیا اور فرمایا: "اطمینان سے جاؤ انہیں اسلام کی دعوت دو اگر تمھاری وجہ سے کوئی شخص ہدایت پا جائے تو وہ تمھارے لیے  سرخ اونٹوں سے بہتر ہے"۔
حضرت علیؓ نے اس غزوے میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور باب خیبر کو اپنے ہاتھ سے اکھاڑدیا، کہا جاتا ہے کہ ستر آدمی مل کر بھی اس دروازے کو ہلا نہیں سکتے تھے مگر تن تنہا حضرت علی نے اللہ کے نام سے اس دروازے کو اٹھا کر ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
کنانہ بن ابی الحقیق نے محمد بن مسلمہؓ کو چکی کا پاٹ گرا کر شہید کردیا، جس کے قصاص میں اسے بھی قتل کردیا گیا۔
یہ شخص حضرت صفیہؓ کا شوہر بھی تھا۔ اس کے بعد حضرت صفیہؓ قیدی بنا کر لائی گئیں تو حضرت دحیہ کلبی نے اپنے لیے ایک لونڈی طلب کی اور نبی اکرم ﷺ کی اجازت سے اپنے مطابق صفیہ بنت حیی کو منتخب کرلیا اس پر ایک شخص نے آکر نبی اکرم ﷺ کو مشورہ دیا کہ وہ لونڈی آپ کے شایان شان ہے۔ پھر آپ نے حضرت صفیہ پر اسلام پیش کیا تو آپ نے قبول فرمالیا اور ان سے نکاح بھی کرلیا۔ آزادی ہی ان کا مہر تھی۔ آپ نے حضرت صفیہ کے چہرے پر نیلا نشان دیکھا تو وجہ طلب کی تو آپ نے بتایا کہ کنانہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے ایک خواب دیکھا تھا "چاند ٹوٹ پر میری آغوش میں آگرا ہے۔" اس پر کنانہ نے ایک تھپڑ مار کر کہا تھا: "تم مدینہ کے بادشاہ کی آرزو کررہی ہو؟" حالاں کہ اس وقت اس معاملے کا کوئی تصور بھی نہ تھا۔
یہاں موجود آٹھوں قلعوں کو فتح کرنے کے بعد اس زمین پر قبضہ کیا گیا۔ اس جنگ میں بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا اور دشمن کا محاصرہ ختم کرنا اس پر معاہدے پر طے پایا کہ یہود جلا وطن نہیں کیے جائیں گے، ساری زمین کی کھیتی اور پیداوار کا آدھا مال مسلمانوں کو دیا جائے گا، جسے خراج کہا جاتا ہے۔
یہ محاصرہ چودہ دن تک جاری رہا۔ 16 مسلمان شہید ہوئے، یہودیوں کے قتل کی تعداد 93 ہے۔
14 مارچ 2026
حوالہ جات:
1- الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری
2- اسلامی تاریخ - امتیاز پراچہ
3- سیرت خاتم الانبیاء از مولانا مفتی محمد شفیع رح

Post a Comment

Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks

جدید تر اس سے پرانی