تحریر: سیدہ حفظہ احمد (حیدرآباد سندھ)
غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی عظیم فتح اور مشرکین کی شکست نے قریش کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑکا دی۔ انہوں نے بدلہ
لینے کے لیے ایک سال تیاری کی اور اعلان کردیا کہ تجارت سے حاصل ہونے والا منافع بھی اسی جنگی تیاری کے لیے وقف کیا جائے۔
مشرکین کا لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا تو حضرت عباسؓ نے بنو غفار کے ایک شخص کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو اطلاع بھجوا دی۔ خبر ملتے ہی نبی ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ جنگ مدینہ کے اندر رہ کر لڑی جائے یا مدینہ سے باہر نکل کر۔ صحابہ کرامؓ کی رائے تھی دشمن کا مقابلہ کھلے میدان میں کیا جائے۔ چنانچہ اکثریت کی رائے کو قبول کرتے ہوئے نبی ﷺ نے جنگ کی تیاری شروع کر دی، جبکہ مدینہ میں اپنی عدم موجودگی میں حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔
نبیﷺ نے کم عمر صحابہ کو جنگ میں شریک ہونے سے روک دیا۔ اسی طرح رافع بن خدیجؓ اور سمرہ بن جندبؓ جو تقریباً پندرہ سال کے تھے، ان کو بھی اجازت نہ دی گئی۔ رافع بن خدیجؓ بہترین تیر انداز تھے، اس لیے وہ پنجوں کے بل کھڑے ہو گئے تاکہ بڑے نظر آئیں۔ ان کی مہارت دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ سمرہ بن جندبؓ نے عرض کیا کہ وہ رافع کو کشتی میں گرا سکتے ہیں۔ جب مقابلہ کروایا گیا تو سمرہؓ جیت گئے، اس پر انہیں بھی جنگ میں شریک ہونے کی اجازت مل گئی۔
مسلمانوں کا لشکر مدینہ سے روانہ ہوا تو راستے میں منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی 300 ساتھیوں کو لے کر واپس لوٹ گیا۔ مسلمانوں کی تعداد کم ہو کر 700 رہ گئی۔ مسلمانوں نے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
یہ جنگ شوال 3 ہجری میں لڑی گئی۔ مشرکین کی تعداد تقریباً 3000 تھی۔ ان کے پاس 700 زرہیں، 300 اونٹ اور 200 گھڑ سوار تھے، جبکہ مسلمانوں کی تعداد 700 تھی اور ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔
نبی ﷺ نے میدانِ جنگ میں صف بندی کے بعد حضرت مصعب بن عمیرؓ کو اسلامی لشکر کا علم عطا کیا۔ حضرت زبیر بن عوامؓ کو ایک دستے کا افسر مقرر کیا۔ دشمن کے ممکنہ عقب سے حملے کے خدشے کے پیش نظر پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ مقرر کیا گیا اور ان کا سردار حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو بنایا گیا۔ رسول ﷺ نے انہیں سختی سے تاکید فرمائی کہ کسی بھی حالت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔
جنگ کا آغاز ہوا تو قریش کا علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے میں حضرت زبیر بن عوامؓ نے اسے قتل کر دیا۔ حضرت حمزہؓ بڑی بہادری سے لڑ رہے تھے اور جو مشرک ان کے سامنے آتا وہ ان کی تلوار سے بچ نہ پاتا۔ قریش ابتدا میں ہی جنگ کا یہ منظر دیکھ کر بھاگنے لگے۔ مسلمانوں نے جب یہ منظر دیکھا تو بعض لوگ مالِ غنیمت جمع کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر پہاڑی پر متعین تیر اندازوں میں سے اکثر نے یہ سمجھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، لہٰذا وہ بھی نیچے اتر آئے۔ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے انہیں نبیﷺ کے حکم کی یاد دہانی کروائی، مگر چند کے سوا باقی سب اپنی جگہ چھوڑ گئے۔
اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریش کے گھڑ سوار دستے کے کمانڈر خالد بن ولید نے عقب سے اچانک حملہ کر دیا۔ اس حملے میں وہاں موجود چند تیر انداز بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور دشمن مسلمانوں کے عقب تک پہنچ گیا۔
اسی دوران حضرت مصعب بن عمیرؓ شہید ہو گئے، جو شکل و صورت میں نبیﷺ سے کافی مشابہت رکھتے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ نبیﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ اس خبر نے مسلمانوں میں اضطراب اور انتشار پیدا کر دیا۔
اس جنگ میں نبیﷺ خود بھی زخمی ہوئے اور آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے خون جاری ہو گیا، بہت سے صحابہ شہید ہو چکے تھے جو صحابہ موجود تھے وہ آنے والے تیروں سے نبیﷺ کو بچاتے تھے
حضرت حمزہ کو وحشی نے شہید کیا اور ابو لہب کی بیوی ہند نے ان کے اعضاء کاٹنے کے بعد کلیجہ چبایا۔
حضرت اصیرمؓ اسی دن ایمان لائے تھے اور جنگ میں شریک ہوکر شہید ہوگئے تھے۔ حضرت حنظلہؓ کا جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ بغیر غسل کیے جنگ میں شریک ہوگئے تھے۔ رسولﷺ نے فرمایا: "فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے"۔ جنگ کے بعد نبیﷺ نے شہداء کی تجہیز و تکفین کا انتظام فرمایا۔
غزوۂ احد میں مسلمانوں کے ستر صحابہ شہید ہوئے۔ مشرکین کے تقریباً 22/23 افراد مارے گئے۔ اگرچہ مسلمانوں کو جانی نقصان زیادہ ہوا، لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی آیات نازل فرما کر مسلمانوں کو تسلی، صبر اور حوصلہ عطا فرمایا۔
حوالہ جاتی کتب:
1- اسلامی تاریخ- امتیاز پراچہ
2- تاریخ امت مسلمہ (حصہ اول) - مولانا محمد اسماعیل ریحان مدظلہ
3- سیرت خاتم الانبیاء-مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ
4- تاریخ ابن کثیر البدایۃ والنہایۃ جلد 4-
5-تاریخ اسلام (عہد رسالت تا خلافت راشدہ)- شاہ معین الدین احمد ندوی
6-تاریخ اسلام (جلد اول)- اکبر شاہ نجیب آبادی
7- الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارک
ایک تبصرہ شائع کریں
Comment for more information please let me know and send an email on hajisyedahmed123@gmail.com Thanks